
پیشاب کی رنگت اور گردے کی حالت: جانیں بیماری کی علامات
تعارف

گردے انسانی جسم کا نہایت اہم عضو ہیں جو ہمارے جسم کو زہریلے مادوں سے صاف رکھنے کا بنیادی کام انجام دیتے ہیں۔ جسم میں موجود فاضل مادے اور اضافی پانی کو فلٹر کر کے پیشاب کے ذریعے خارج کرتے ہیں۔ گردے اگر صحیح طریقے سے کام نہ کریں تو ان زہریلے مادوں کا جسم میں جمع ہونا ہماری صحت کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
گردے کی خرابی کی ابتدائی علامات کو پہچاننا بہت ضروری ہے تاکہ بروقت علاج ممکن ہو سکے۔ ان میں سب سے اہم علامت پیشاب کی رنگت ہے، جو براہِ راست گردوں کی صحت کی عکاسی کرتی ہے۔
گردے اور پیشاب کا تعلق
گردے خون کو فلٹر کرتے ہیں اور اس میں سے فاضل مادے، یوریا، کریئٹینائن، اضافی نمکیات اور پانی کو پیشاب کی صورت میں خارج کرتے ہیں۔ یہ پیشاب مثانے میں جمع ہوتا ہے اور بعد میں جسم سے خارج ہوتا ہے۔ اگر گردے اپنا کام صحیح طریقے سے انجام نہ دے سکیں تو یہ فاضل مادے جسم میں جمع ہو کر مختلف طبی پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں۔
پیشاب کی رنگت سے گردے کی صحت کا اندازہ کیسے لگائیں؟
پیشاب کی رنگت میں تبدیلی گردے کی بیماری کا ابتدائی اشارہ ہو سکتی ہے۔ درج ذیل پیشاب کی رنگتیں مختلف طبی حالتوں کی نشاندہی کرتی ہیں:
1. شفاف یا بہت ہلکا پیلا پیشاب:
- عمومی طور پر یہ صحت مند گردوں کی علامت ہے۔
- زیادہ پانی پینے سے پیشاب زیادہ ہلکا ہو جاتا ہے۔
2. گہرا پیلا پیشاب:
- جسم میں پانی کی کمی کی علامت ہو سکتا ہے۔
- عام طور پر صبح کے وقت پیشاب کی رنگت گہری ہوتی ہے جو نارمل ہے۔
3. نارنجی رنگ کا پیشاب:
- پانی کی شدید کمی یا کچھ مخصوص دواؤں کے استعمال کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
- اگر مستقل طور پر ایسا ہو تو ڈاکٹر سے رجوع ضروری ہے۔
4. سرخ یا گلابی رنگ کا پیشاب:
- پیشاب میں خون کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
- گردے کی پتھری، انفیکشن، یا ٹیومر جیسی سنگین بیماریوں کا سبب ہو سکتا ہے۔
5. بھورا یا چائے جیسا رنگ:
- یہ ممکنہ طور پر گردے کی ناکامی یا لیور کے مسائل کی علامت ہو سکتا ہے۔
- فوری طور پر میڈیکل جانچ کی ضرورت ہوتی ہے۔
6. جھاگ دار یا بلبلا دار پیشاب:
- یہ پروٹینوریا (پیشاب میں پروٹین کا اخراج) کی علامت ہو سکتی ہے۔
- ذیابیطس یا گردے کی خرابی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
پیشاب میں بدبو یا جلن کا تعلق
گردے کی بیماریوں میں صرف رنگت ہی نہیں بلکہ پیشاب کی بو اور جلن بھی اہم علامات ہیں:
- تیز بدبو: پیشاب میں بیکٹیریا کی افزائش، یو ٹی آئی یا گردے کی خرابی کی علامت۔
- جلن: پیشاب کی نالی میں انفیکشن یا گردے میں سوزش کی نشاندہی کر سکتی ہے۔
- بار بار پیشاب آنا: ذیابیطس، پروسٹیٹ یا گردے کی کمزوری کی علامت ہو سکتی ہے۔
پروٹینوریا: گردے کی خرابی کی خاموش علامت
پیشاب میں پروٹین کی موجودگی کو پروٹینوریا کہا جاتا ہے۔ یہ حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب گردے خون سے فلٹر کرتے وقت پروٹین کو روکنے میں ناکام ہو جائیں۔
پروٹینوریا کی وجوہات:
- ذیابیطس
- ہائی بلڈ پریشر
- گردے کی سوزش
- بعض اوقات جینیاتی بیماریاں
علامات:
- جھاگ دار پیشاب
- سوجن (خصوصاً ہاتھ، پاؤں اور چہرے پر)
- تھکن
- وزن میں کمی
گردے کی خرابی کی عمومی علامات
- پیشاب کی مقدار میں کمی یا زیادتی
- صبح کے وقت آنکھوں کے نیچے سوجن
- پاؤں اور ٹخنوں کی سوجن
- تھکن اور کمزوری
- بھوک کی کمی
- متلی اور قے
- سانس میں بدبو یا سانس لینے میں دشواری
گردے کی بیماریوں کی اقسام
1. ایکیوٹ کڈنی فیلئر (Acute Kidney Injury):
- اچانک گردے کے کام چھوڑ دینے کی حالت۔
- فوری علاج سے گردہ دوبارہ کام شروع کر سکتا ہے۔
2. دائمی گردے کی بیماری (CKD):
- وقت کے ساتھ گردے کے فنکشن میں کمی آتی ہے۔
- اگر کنٹرول نہ ہو تو گردے مکمل طور پر ناکام ہو سکتے ہیں۔
3. اینڈ اسٹیج رینل ڈیزیز (ESRD):
- گردے کا مکمل طور پر ناکام ہو جانا۔
- مریض کو ڈائیلاسس یا گردے کی پیوندکاری کی ضرورت ہوتی ہے۔
گردے کی بیماریوں کی بڑی وجوہات
- بے قابو ذیابیطس
- ہائی بلڈ پریشر
- پتھری یا گردے میں رکاوٹ
- جینیاتی بیماریاں (مثلاً پولی سسٹک کڈنی)
- کچھ زہریلے ادویات یا جراثیم کش ادویات کا استعمال
- مسلسل پانی کی کمی
گردوں کی حفاظت کیسے کریں؟
- پانی کا مناسب استعمال: دن میں کم از کم 8-10 گلاس پانی پینا۔
- بلڈ پریشر اور شوگر کو کنٹرول میں رکھیں۔
- نمک اور چکنائی کا کم استعمال۔
- باقاعدہ ورزش۔
- تمباکو اور شراب سے پرہیز۔
- ادویات کا بغیر ضرورت استعمال نہ کریں۔
- پیشاب میں تبدیلی محسوس ہونے پر فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
ڈائیلاسس کیا ہے؟
جب گردے مکمل طور پر فیل ہو جائیں تو جسم سے فاضل مادوں کو نکالنے کے لیے مصنوعی طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے جسے ڈائیلاسس کہتے ہیں۔ یہ دو اقسام پر مشتمل ہوتا ہے:
- ہیمو ڈائیلاسس: مشین کے ذریعے خون کو فلٹر کیا جاتا ہے۔
- پیروٹونیل ڈائیلاسس: پیٹ کے ذریعے جسم سے فاضل مادے نکالے جاتے ہیں۔
نتیجہ
گردے کی بیماری ایک خاموش قاتل ہے جو دھیرے دھیرے ہمارے جسم کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری کی ابتدائی علامات کو پہچان کر ہم نہ صرف گردے کی بیماری کو کنٹرول کر سکتے ہیں بلکہ جان بچا سکتے ہیں۔ پیشاب کی رنگت، بدبو، مقدار، جھاگ، یا جلن میں کسی بھی تبدیلی کو معمولی نہ سمجھیں بلکہ فوری طور پر کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
اگر آپ گردے کی صحت کے حوالے سے مزید رہنمائی چاہتے ہیں یا اپنی علامات پر تشویش ہے تو ماہر نیفرولوجسٹ سے رجوع ضرور کریں۔ آپ کی صحت، آپ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔