
✦ تمہید

اسلام ایک پاکیزہ دین ہے جو طہارت (صفائی) کو ایمان کا حصہ قرار دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
“الطُّهُورُ شَطْرُ الإِيمَانِ”
(مسلم)
ترجمہ: پاکیزگی ایمان کا آدھا حصہ ہے۔
اسی طہارت کے نظام میں “غسل جنابت” ایک لازمی جزو ہے، جو مخصوص حالتوں کے بعد فرض ہو جاتا ہے۔ مگر افسوس کہ بہت سے لوگ غسل کے دوران ایسی غلطیاں کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ پاک نہیں ہوتے، ان کی نماز، قرآن خوانی، اور دیگر عبادات بھی معتبر نہیں ہوتیں۔
❖ وہ عام غلطی جس کی وجہ سے اکثر مسلمان ناپاک رہتے ہیں
✦ غلطی: ناک اور منہ کے اندر پانی نہ ڈالنا
احادیثِ مبارکہ اور فقہی ہدایات کے مطابق، غسل جنابت کے تین فرض ہیں:
- کلی کرنا (یعنی پانی سے منہ کے اندر ہر حصے کو دھونا)
- ناک میں پانی ڈال کر نرم ہڈی تک پہنچانا
- پورے جسم پر پانی بہانا
لیکن بہت سے لوگ صرف جسم پر پانی بہا لیتے ہیں اور کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کو معمولی یا غیر ضروری سمجھتے ہیں۔
یہ ایک خطرناک غلطی ہے کیونکہ:
- جب تک ناک اور منہ کے اندر پانی نہ جائے، غسل جنابت مکمل نہیں ہوتا۔
- یہ فقہی طور پر فرض ہے، اور فرض کا چھوڑ دینا گناہِ کبیرہ ہے۔
❖ اس غلطی کے اثرات
1. عبادتیں قبول نہیں ہوتیں
جب انسان ناپاک ہو تو:
- اس کی نماز قبول نہیں ہوتی
- قرآن کی تلاوت جائز نہیں ہوتی
- مسجد میں جانا منع ہوتا ہے
2. رزق میں بندش اور بے برکتی
اسلامی روحانیات میں پاکیزگی کو برکت اور رزق کی کنجی کہا گیا ہے۔ جو ناپاک رہے:
- اس پر اللہ کی رحمت نہیں آتی
- رزق میں بے برکتی آتی ہے
- دعائیں قبول نہیں ہوتیں
3. روحانی بوجھ اور بے سکونی
ناپاکی کی حالت میں رہنے والا فرد اکثر:
- دل کی بے چینی محسوس کرتا ہے
- نیند میں بے سکونی ہوتی ہے
- بد اخلاقی اور غصے کا شکار ہوتا ہے
❖ غسلِ جنابت کا صحیح طریقہ
نبی کریم ﷺ نے غسل جنابت کا جو طریقہ بتایا، اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
- نیت کریں (دل میں) کہ غسل جنابت کے لیے غسل کر رہا ہوں
- ہاتھ دھوئیں تین مرتبہ
- شرمگاہ کو دھوئیں
- نماز کی طرح وضو کریں (اگر مکمل وضو نہ کریں تو کلی اور ناک میں پانی ڈالنا ضروری ہے)
- پہلے سر پر تین مرتبہ پانی بہائیں
- دائیں طرف پورے جسم پر پانی ڈالیں
- پھر بائیں طرف پورے جسم پر پانی ڈالیں
- جسم کے ہر حصے (ناف، کان، انگلیوں کے بیچ، زیرِ بغل، ایڑیاں) تک پانی پہنچائیں
❖ چند اضافی نکات:
- اگر بال گھنے ہیں تو پانی جڑوں تک پہنچنا ضروری ہے
- ناخنوں کے نیچے میل یا نیل پالش نہ ہو
- کان، ناک، اور ناف کے اندر پانی پہنچے
❖ نتیجہ
غسل جنابت ایک بنیادی فرض عبادت ہے جسے مکمل اور صحیح طریقے سے ادا کرنا ہر بالغ مسلمان مرد و عورت پر لازم ہے۔ ناک اور منہ میں پانی ڈالے بغیر غسل ناقص رہتا ہے، اور انسان ناپاکی کی حالت میں رہتا ہے، چاہے وہ روزانہ غسل ہی کیوں نہ کرے۔
لہٰذا، اپنے غسل کو شریعت کے مطابق کریں تاکہ عبادات بھی درست ہوں، رزق میں برکت آئے، اور زندگی میں روحانی سکون ملے۔