
تعارف
تھائی رائیڈ ایک چھوٹا سا غدود (gland) ہے جو ہماری گردن کے سامنے والے حصے میں ہوتا ہے، لیکن اس کا اثر ہمارے پورے جسم پر پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے تھائی رائیڈ کی خرابیاں اکثر خاموشی سے بڑھتی ہیں اور درجنوں سنگین بیماریوں کی شکل اختیار کر سکتی ہیں، اور بیشتر افراد کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا۔
عالمی سطح پر کروڑوں افراد تھائی رائیڈ کے مسائل سے متاثر ہیں، خصوصاً خواتین میں یہ مسئلہ مردوں کی نسبت کئی گنا زیادہ پایا جاتا ہے۔ پاکستان، بھارت اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں یہ مسئلہ عام ہے، لیکن لاعلمی اور غفلت کی وجہ سے اکثر لوگ بروقت علاج نہیں کروا پاتے۔

تھائی رائیڈ گلینڈ کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟
تھائی رائیڈ گلینڈ ایک پروان کی شکل کا غدود ہوتا ہے جو گردن کے نچلے حصے میں پایا جاتا ہے۔ یہ گلینڈ تین اہم ہارمونے بناتا ہے:
- T3 (Triiodothyronine)
- T4 (Thyroxine)
- Calcitonin
T3 اور T4 ہارمونز جسم کے میٹابولزم یعنی توانائی کے استعمال، وزن، دل کی دھڑکن، جسم کا درجہ حرارت، جلد کی حالت، دماغی سرگرمیوں، اور ہاضمے تک کو متاثر کرتے ہیں۔
تھائی رائیڈ کی دو بڑی اقسام
1. Hypothyroidism (تھائی رائیڈ کی کمی):
اس میں تھائی رائیڈ ہارمون کم بننے لگتے ہیں، جس سے جسم کی سرگرمیاں سست ہو جاتی ہیں۔
علامات:
- وزن میں غیر معمولی اضافہ
- تھکاوٹ، نیند کا زیادہ آنا
- قبض
- سردی لگنا
- چہرے یا آنکھوں کی سوجن
- بالوں کا گرنا
- یادداشت کی کمزوری
- حیض کی بے ترتیبی (خواتین میں)
2. Hyperthyroidism (تھائی رائیڈ کی زیادتی):
اس میں تھائی رائیڈ ہارمون ضرورت سے زیادہ بنتے ہیں، اور جسمانی افعال غیر معمولی تیزی سے ہونے لگتے ہیں۔
علامات:
- وزن میں کمی
- دل کی دھڑکن کا تیز ہونا
- پسینہ آنا، بےچینی
- ہاتھوں کا کانپنا
- نیند کی کمی
- حیض کی بےقاعدگی
- آنکھوں کا باہر نکل آنا (Graves’ disease میں)
کیوں تھائی رائیڈ خطرناک بیماریوں کی جڑ ہے؟
تھائی رائیڈ کی خرابی:
- دل کے امراض
- ذیابیطس
- بانجھ پن (Infertility)
- ذہنی دباؤ اور ڈپریشن
- ہائی کولیسٹرول
- ہڈیوں کی کمزوری
- جلد، بال، ناخن کی خرابیاں
- بانجھ پن اور حمل میں پیچیدگیاں
کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے۔
کیا تھائی رائیڈ کی بیماری موروثی ہو سکتی ہے؟
جی ہاں۔ اگر خاندان میں کسی کو تھائی رائیڈ کی بیماری ہو تو دوسرے افراد میں اس کے ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ:
- خواتین میں حمل کے بعد
- زیادہ عمر کے افراد میں
- آٹو امیون بیماریاں جیسے لیوپس یا ریمیٹائڈ آرتھرائٹس والے مریضوں میں
- آئیوڈین کی کمی والے علاقوں میں تھائی رائیڈ کی خرابی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
تھائی رائیڈ کی جانچ کیسے کی جاتی ہے؟
تھائی رائیڈ کی تشخیص کے لیے درج ذیل خون کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں:
- TSH (Thyroid Stimulating Hormone):
سب سے اہم ٹیسٹ۔ اگر TSH زیادہ ہے تو Hypothyroidism اور کم ہے تو Hyperthyroidism ہو سکتا ہے۔ - T3 اور T4:
یہ ٹیسٹ تھائی رائیڈ ہارمونز کی مقدار جاننے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ - TPO Antibodies Test:
یہ ٹیسٹ آٹو امیون تھائی رائیڈ بیماریوں کے لیے کیا جاتا ہے، جیسے Hashimoto’s یا Graves’ Disease۔
علاج کیا ہے؟
1. Hypothyroidism کا علاج:
- دوا: Levothyroxine جو T4 ہارمون کی مصنوعی شکل ہے۔
- روزانہ خالی پیٹ لیا جاتا ہے۔
- خوراک کا تعین TSH لیول کے مطابق ہوتا ہے۔
2. Hyperthyroidism کا علاج:
- دوا: Methimazole یا PTU جیسے اینٹی تھائی رائیڈ ادویات
- ریڈیوایکٹیو آئوڈین تھراپی (جو تھائی رائیڈ کو سکڑنے پر مجبور کرتی ہے)
- بعض کیسز میں تھائی رائیڈ گلینڈ کو آپریشن کے ذریعے نکالنا پڑتا ہے۔
گھر بیٹھے احتیاطی تدابیر اور پرہیز
- آئوڈین والی نمک کا استعمال (اگر کمی ہو تو)
- باقاعدہ ورزش
- تناؤ سے بچاؤ
- سالانہ تھائی رائیڈ چیک اپ (خصوصاً خواتین)
- متوازن غذا جس میں سلینیئم، زنک، آئرن، اور وٹامن B شامل ہوں
تھائی رائیڈ سے متاثر افراد کی زندگی کیسے بدلی جا سکتی ہے؟
اگر بیماری کا بروقت پتا چل جائے اور دوا باقاعدگی سے لی جائے تو مریض نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔ تھائی رائیڈ ایک مستقل مسئلہ ہو سکتا ہے، مگر اس کا علاج مؤثر ہے بشرطیکہ مریض:
- دوا نہ چھوڑے
- اپنے TSH لیول کی باقاعدہ جانچ کرواتا رہے
- ڈاکٹر کی ہدایات پر سختی سے عمل کرے
نتیجہ
تھائی رائیڈ ایک چھوٹا سا غدود ہے مگر اس کی خرابی جسم کے درجنوں نظاموں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کی علامات اتنی عام اور دھیمی ہوتی ہیں کہ اکثر لوگ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں، جس سے معاملہ سنگین ہو جاتا ہے۔
لہٰذا اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز کو تھکاوٹ، وزن کا اچانک اتار چڑھاؤ، نیند کی خرابی یا دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی جیسے مسائل درپیش ہیں تو فوراً تھائی رائیڈ ٹیسٹ کروائیں۔
یاد رکھیں: بروقت تشخیص، نصف علاج ہے۔